حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خانۂ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران پیشاور پاکستان میں رہبرِ شہیدِ اُمت حضرت آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کی یاد میں تین زبانوں میں مشاعرہ اور تقریبِ رونمائی کتب کا روح پرور پروگرام منعقد ہوا۔

تفصیلات کے مطابق، علم و ادب، فکر و آگہی اور عقیدت و محبت کے حسین امتزاج سے مزین ایک یادگار اور پروقار ادبی تقریب، پیشاور پاکستان میں موجود خانۂ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران میں منعقد ہوئی، جہاں رہبرِ شہیدِ اُمت حضرت آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی یاد میں پشتو، اردو اور فارسی زبانوں پر مشتمل ایک عظیم الشان سہ لسانی ادبی مشاعرہ اور تقریبِ رونمائی کتب کا اہتمام کیا گیا۔
یہ بابرکت محفل نہ صرف شعرو ادب کا حسین سنگم ثابت ہوئی، بلکہ رہبرِ شہیدِ امت کی عظیم فکری، روحانی اور انقلابی شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی بنی۔

تقریب کا ماحول ابتدا ہی سے روحانیت، عقیدت اور فکری بالیدگی سے سرشار تھا۔ شعراء، ادباء، دانشوروں، اہلِ قلم اور علم و ادب سے وابستہ شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اس یادگار محفل کو اپنی موجودگی سے وقار بخشا۔
مشاعرے میں اردو، پشتو اور فارسی زبان کے شعراء نے اپنے منفرد اور دلنشیں کلام کے ذریعے رہبرِ شہیدِ امت حضرت آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کی ہمہ جہت شخصیت، ان کے علمی و فکری مقام، انقلابی بصیرت، بے مثال قیادت، اسلامی دنیا کے لیے ان کی گراں قدر خدمات اور امتِ مسلمہ کی بیداری و وحدت کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد کو نہایت مؤثر انداز میں منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا۔
شعراء نے اپنے اشعار میں رہبرِ شہیدِ امت کی شخصیت کو فقط ایک سیاسی یا مذہبی رہنما کے طور پر نہیں، بلکہ ایک عہد ساز مفکر، مدبر، مصلحِ اُمت اور فکری استقامت کی علامت کے طور پر پیش کیا۔
محفل میں پڑھے جانے والے کلام میں مقاومت، آزادی، استکبار کے خلاف استقامت، وحدتِ امت، بیداریِ مسلمین اور عشقِ ولایت جیسے موضوعات نمایاں رہے، جنہوں نے سامعین کے دلوں میں ایک خاص روحانی کیفیت پیدا کی۔
حاضرین نے متعدد مقامات پر شعراء کو بھرپور داد دی اور یوں محفل ایک وجد آفریں ادبی فضا میں تبدیل ہو گئی۔
اس باوقار ادبی تقریب کا ایک اہم اور یادگار پہلو دو اہم کتب کی تقریبِ رونمائی بھی تھی، جن میں "رہبرِ شہید" اور سفرنامۂ ایران "حصارِ عشق" شامل ہیں۔

کتاب "رہبرِ شہید"کے مصنف معروف ادیب اور صاحبِ قلم توقیر کھرل خصوصی طور پر لاہور سے اس تقریب میں شرکت کے لیے تشریف لائے۔
جناب توقیر کھرل ادب و تحقیق کے میدان میں ایک معتبر نام ہیں اور اب تک سات کتب کے مصنف کی حیثیت سے علمی و ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔
ان کی کتاب "رہبرِ شہید" کو رہبرِ شہیدِ اُمت کی شخصیت، افکار، خدمات اور ان کی تاریخی جدوجہد پر ایک اہم ادبی و فکری دستاویز قرار دیا گیا۔

اسی طرح سفرنامۂ ایران "حصارِ عشق" کی مصنفہ تابندہ فرخ کی علمی و ادبی کاوش کو بھی حاضرین نے بے حد سراہا۔
اس سفرنامے میں ایران کی تہذیب، ثقافت، روحانی فضا اور مشہد مقدس میں امام رضاؑ کی زیارت، تاریخی مقامات اور وہاں کے سماجی و فکری مشاہدات کو نہایت خوبصورتی اور ادبی اسلوب کے ساتھ قلم بند کیا گیا ہے، جسے ادب دوست حلقوں میں خاص توجہ حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی۔

مقررین اور حاضرین نے اس تقریب کو محض ایک ادبی اجتماع نہیں، بلکہ ایک فکری و روحانی سفر قرار دیا، جہاں شعر و ادب کے ذریعے ایک عظیم شخصیت کی خدمات، افکار اور جدوجہد کو نئی نسل کے سامنے اجاگر کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی۔
تقریب اپنے اختتام کو پہنچی تو حاضرین کے دل و دماغ میں ایک فکری تازگی، روحانی وابستگی اور ادبی سرشاری کی کیفیت نمایاں تھی۔
شرکاء نے خانۂ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران پیشاور پاکستان کی اس بامقصد اور شاندار کاوش کو سراہا۔










آپ کا تبصرہ